امین راز ہے مردان حُر کی درویشیکہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت خویشی
اقبال
“حُر بن یزید ریاحی” کی داستان عاشورا اور کربلا کی عجیب ترین اور سبق آموزترین داستانوں میں سے ایک ہے۔وہ ایک جوانمرد پہلوان اور طاقتور سپہ سالار تھے۔ بعض لوگ انہیں “کوفہ کا دلیرترین مرد” قرار دیتے تھے۔ اس لقب کی اہمیت اس وقت واضح ہوجاتی ہے جب ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ کوفہ ایک فوجی چھاؤنی اور اسلام کا پہلا قلعہ تھا جو اس زمانے کی پہلے درجے کی طاقت یعنی "سلطنت ایران" کا مقابلہ کرنے کے لئے تعمیر کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس شہر کے اکثر باشندے فوجی اور عرب و عجم کے نامور سپہ سالار تھے۔ جب کوفہ میں یزید کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کو بتایا گیا کہ امام حسین علیہ السلام عراق میں داخل ہوچکے ہیں، تو اس نے حُر کو ایک ہزار افراد کا لشکر دے کر امام (ع) کا راستہ روکنے کے لئے روانہ کیا۔ ابن زیاد نے حُر کو حکم دیا کہ اگر امام کوفہ آنے پر اصرار کریں تو تم آپ (ع) کو گرفتار کرکے دارالامارہ لے آنا۔ حُر جب عبیداللہ کے محل سے نکلے تو پیچھے سے ایک صدا آئی۔ صاحب آواز کہہ رہا تھا: “حُر! تمہیں مبارک ہو کیونکہ تم خیر کی سمت جارہے ہو!”۔ حُر پلٹے صدا کی جانب، مگر انہیں کوئی نظر نہ آیا۔ حیرت کے ساتھ اپنے آپ سے پوچھا:” یہ کیسی بشارت ہے؟ اور یہ کونسی خیر ہوسکتی ہے جو امام حسین علیہ السلام کے خلاف لڑنے میں ملتی ہے...!” دوپہر کی گرمی میں حُر کا لشکر امام علیہ السلام کے قافلے کے پڑاؤ کے قریب پہنچا۔ حُر بھی ان کے سپاہی بھی اور گھوِڑے بھی بہت پیاسے تھے، امام علیہ السلام نے ان کی پیاس دیکھی تو اپنی ساتھیوں کو ہدایت فرمائی کہ: “ان لوگوں اور ان کی گھوڑوں کو پانی پلاؤ”۔ پانی دے دیا گیا۔ حُر کا ایک سپاہی پانی پینے سے قاصر تھا اور پانی مشک سے گررہا تھا۔ امام علیہ السلام اپنے دست مبارک سے اس کو پانی پلایا اور اس کو سیراب کیا۔ آخر وہ امام تھے چاہے حالت قیام میں ہوں یا پھر حالت قعود میں...محترم قاری! امام علیہ السلام کی یہ محبت و مہربانی دیکھیں اور پھر اس احسن اسلامی اور انسانی طرز سلوک کا اُس طرز سلوک کے ساتھ موازنہ کریں جو یزیدی سپاہیوں نے امام حسین علیہ السلام اور آپ کے خاندان کے ساتھ روا رکھا! امام (ع) نے ان کے گھوڑوں تک کو پانی پلایا مگر ان ظالموں نے امام (ع) کے فرزندوں اور آل رسول (ص) تک کو پانی دینے سے گریز کیا۔ حُر کے لشکر اور گھوڑوں نے پانی پیا تو نماز ظہر کا وقت ہوچکاتھا۔ امام علیہ السلام خیمے سے نکل آئے مختصر سا خطبہ پڑھا اور فرمایا: “لوگو! میں اس وقت تک تمہارے پاس نہیں آیا جب تک تمہاری طرف سے خطوط موصول نہیں ہوئے؛ تمہارے ایلچی اور قاصد میرے پاس آئے اور مجھ سے درخواست کرتے ہوئے کہا: ہمارے پاس آئیں کیونکہ ہمیں ایک امام کی ضرورت ہے۔ اب اگر تم اسی عہد و پیمان کے پابند ہو تو بتاؤ اور اگر پابند نہیں ہو اور میرے آنے سے ناخوش ہو تو میں یہیں سے واپس مدینہ کی جانب لوٹ کر چلا جاتا ہوں”۔اس کے بعد آپ (ع) نے حُر سے مخاطب ہوکر فرمایا: کیا تم اپنے سپاہیوں کے ساتھ نماز ادا کرنا چاہوگے؟ حُر نے عرض کیا: نہیں، ہم سب آپ کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔امام علیہ السلام نماز کے بعد اپنے خیمے میں تشریف لے گئے اور حُر بھی اپنے سپاہیوں کے پاس چلے گئے۔ نماز عصر کے وقت امام علیہ السلام پھر بھی اپنے خیمے سے خارج ہوئے اور نماز عصر ادا کی اور کوفیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: “اے لوگو! خدا سے ڈرو اور حق کو اہل حق کے لئے قرار دو خداوند متعال تم سے راضی و خوشنود ہوگا۔ ہم اہل بیت محمد (ص) مقام خلافت کے کے سلسلے میں ان مدعیوں سے زیادہ حقدار ہیں جو اس مقام کے حقدار نہیں ہیں اور وہ تمہارے اوپر ظلم و ستم روا رکھتے ہیں۔ اس کے با وجود اگر ہم تمہیں پسند نہیں ہیں اور اگر تم ہمارا حق تسلیم نہیں کرتے ہو اور تمہاری رائے تمہارے خطوط میں لکھے ہوئے مضمون اور تمہارے بھیجے ہوئے قاصدوں کے قول سے مختلف ہے، تو میں مدینہ لوٹ کر چلا جاتا ہوں۔”حُر نے کہا: “خدا کی قسم! میں ان خطوط اور قاصدوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔” امام علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی کو ہدایت کی کہ وہ خطوط لا کر حُر کو دکھائیں جو کوفیوں نے ارسال کئے تھے۔ امام علیہ السلام نے بے شمار خطوط حُر کو دکھائے۔ حُر نے کہا: “میں خطوط بھیجنے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں۔ مجھے حکم ملا ہے کہ جب آپ کو دیکھ لوں آپ کے ساتھ ساتھ رہوں تا آن کہ مل کر کوفہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلے جائیں۔” یوں حُر نے امام علیہ السلام کو یہ بتلانا چاہا کہ اس کے بعد آپ لشکر یزید کی حراست میں ہیں۔ امام علیہ السلام نے حرم کے ساتھ آنے والے اصحاب و انصار اور بیبیوں کو حکم دیا اور فرمایا: “واپس چلتے ہیں”۔ مگر حُر کے لشکر نے امام علیہ السلام کو واپسی سے بھی روکا اور مدینہ کی جانب جانے والا راستہ سپاہیان یزید نے بند کردیا۔امام علیہ السلام اور کوفیوں کے درمیان گفتگو بے نتیجہ رہی اور آخر کار امام علیہ السلام کا قافلہ یزیدی جبر کے نتیجے میں کربلا کی سرزمین پر اترا....اب ہم ذرا آگے چل کر دیکھتے ہیں کہ عاشورا کے دن کیا ہوا؟جب عاشورا کا دن ہوا اورحُر نے حضرت امام حسین علیہ السلام کا استغاثہ سنا جو فرما رہے تھے: “اما من مغیث یغیثنا لوجہ اللہ؟ اما من ذابّ یذبّ عن حرم رسول اللہ؟ کیا کوئی فریادرس بھی نہیں ہے کہ خدا کی خاطر ہماری مدد کرے؟ کیا کوئی بھی مدافع نہیں ہے جو رسول اللہ (ص) کے حرم کا دفاع کرے؟”۔ حُر عمر سعد کے پاس پہنچے اور کہا: “کیا واقعی تم امام حسین علیہ السلام کے خلاف لڑنا چاہتے ہو؟” عمر نے کہا: “ہاں لڑنا چاہتا ہوں” حُر نے پوچھا: “تم امام (ع) کی اس تجویز سے اتفاق کیوں نہیں کرتے کہ وہ واپس حجاز لوت کر چلے جائیں؟”۔ عمر نے کہا: “اگر اختیار میرے پاس ہوتا تو میں امام (ع) کی تجویز سے اتفاق کرتا لیکن یزید کا گورنر عبیداللہ بن زیاد اس طرح راضی نہیں ہوتا”۔ حُر کو اب یقین ہوچکاتھا کہ یزیدی لشکر امام (ع) کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ سوچتے ہوئے ان کے تن بدن پر لرزہ طاری ہؤا...وہ میدان میں ایک جانب فرزند رسول (ص) اور خاندان وحی کا مشاہدہ کررہے تھے اور دوسری جانب دیکھ رہے تھے کہ دشمنان رسول خدا کیل کانٹے سے لیس اس حرم پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں؛ ایک طرف خدا کے عبد صالح تھے اوردوسری طرف غاصب بادشاہ نظر آرہا تھا جو اعلانیہ شراب نوش کرتا تھا اور حرام محمد (ص) کو حلال سمجھتا تھا اور حلال محمد (ع) کو حرام قرار دیتا تھا؛ ایک طرف عشق اور شہادت کی حکمرانی تھی اور دوسری طرف پلیدی اور خیانت کا دور دوره تها؛ ایک جانب سعادت تھی اور دوسری طرف شقاوت و بدبختی...حُر نے اپنا آخری ارادہ کرہی لیا اور ایسے حال میں دنیا اور دنیا کی چمک دمک کو پشت کیا کہ ہزاروں کے لشکر کے سپہ سالار تھے۔ حُر نے سعادت عشق کا راستہ اختیار کیا تھا، چنانچہ اپنے گھوِڑے کو پانی دینے کے بہانے لشکر یزید سے دور و دورتر ہوئے اور خیام حسین علیہ السلام کے قریب و قریب تر...“مہاجربن اوس” حُر کے ہمراہ تھا۔ پوچھنے لگا: “کیا سوچ رہے ہو؟ کیا حسین پر حملہ کرنا چاہتے ہو؟”۔ حُر نے جواب نہ دیا جبکہ ان کا پورا بدن کانپ رہا تھا۔ مہاجر نے کہا: “خدا کی قسم کہ میں نے کبھی بھی تمہیں اس حال میں نہیں دیکھا ہے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھتا کہ کوفہ کا دلیرترین مرد کون ہے تو میں تمہارا نام لیتا”۔ حُر نے جواب دیا: “واللہ میں اپنے آپ کو جنت اور دوزخ کے درمیان دیکھ رہا ہوں اور اگر میری جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور مجھے جلا دیا جائے تو بھی کسی چیز کو جنت پر ترجیح نہیں دوں گا”۔ اس کے بعد حُر نے گھوِڑا دوڑایا اور خیام امام (ع) کے روبرو پہنچ گئے۔ حُر جب امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نادم و شرمندہ تھے اور انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے سرپر رکھا تھا۔ حُر نے کہا: “اللہم الیک انبت فتب علی فقد ارعبت قلوب اولیائک و اولاد بنت نبیک – خداوندا! میں تیری طرف لوٹ آیا پس میری توبہ قبول فرما کیوں کہ میں نے تیرے اولیاء اور دوستوں اور تیرے رسول (ص) کی بیٹی کے فرزندوں کو خوف و دہشت سے دوچارکیا”۔ اور اس کے بعد انتہائی ندامت و شرمندگی کے ساتھ فرزند رسول (ص) امام حسین (ع) سے عرض کیا: “اے فرزند رسول خدا (ص)! میں نے ہی آپ کی واپسی کا راستہ بند کیا اور آپ پر سختی کی کیوں کہ میں ہرگز تصور نہیں کرتا تھا کہ یہ لوگ آپ کی تجویز سے اتفاق نہیں کریں گے اور معاملہ یہاں تک پہنچے گا؛ خدا کی قسم اگر مجھے یہ سب کچھ معلوم ہوتا ہرگز آپ کا راستہ بند نہ کرتا اور آپ کو نہ روکتا۔ اس وقت میں اپنے کئے پر پشیمان ہوں اور خدا کی بارگاہ میں اپنے اس عمل سے توبہ کرتا ہوں۔ کیا میرے لئے توبہ کرنے کا امکان ہے؟”۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: “ہاں! خدا تمہاری توبہ قبول فرمائے! گھوِڑے سے نیچے اتر آؤ”۔حُر نے عرض کیا: “چونکہ میں پہلا آدمی تھا جو آپ کے مقابلے کے لئے آیا لہذا سب سے پہلے آپ کے سامنے قتل ہونا چاہتا ہوں، شاید حساب کے روز میرا ہاتھ آپ کے جد (ص) کے ہاتھ میں قرارپانے کے قابل ہوجائے”۔امام علیہ السلام نے حُر کو جہاد کا اذن دیا۔ حُر امام علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہوگئے اور لشکر یزید کی جانب رخ کرکے کہا: “اے اہل کوفہ! تم نے خدا کے اس عبد صالح کو کوفہ آنے کی دعوت دی اور جب وہ یہاں تشریف لائے تو تم نے انہیں اکیلا چھوڑا!؟ تم نے ان سے وعدہ کیا کہ ان کی راہ میں جانفشانی کروگے اور جب وہ آگئے تو تم نے اپنی تلواریں ان کے خلاف لڑنے کے لئے سونت لیں اور اب تم خدا کی وسیع و عریض زمین میں کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دی رہے ہو؟ یہود، نصاری اور مجوسی فرات کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں مگر تم نے ان کی خواتین، بچیوں اور خاندان کو اس پانی سے محروم کیا؟ خدا اس روز عطش (قیامت) کو تمہاری پیاس نہ بجھائے اور تمہیں سیراب نہ کرے کیوں کہ تم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرمت کا پاس نہیں رکھا”۔ منطق و عقل سے عاری یزیدی فوج حُر کی باتوں کو مزید برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے حُر پر تیروں کی بارش کردی۔ پس حُر نے رجز خوانی کا آغاز کیا اور “زہیر” کے ہمراہ دشمن کے لشکر پر حملہ کیا۔ حُر نے لڑنے کا حق ادا کیا اور بے شمار یزیدیوں کو واصل جہنم کیا تا آنکہ یزیدیوں نے اپنے پرانے ناجوانمردانہ انداز میں یکبارگی سے ان پر حملہ کیا اور انہیں شہید کردیا۔امام علیہ السلام حُر کے جسم بے جان کے پاس پہنچے اور فرمایا: “اے حُر! جیسا کہ مان نے تمہارا نام “حُر” رکھا تھا تم دنیا اور آخرت میں حُر ہی ہو”۔ حُر کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور امام علیہ السلام نے اپنے رومال سے ان کا زخم باندھ لیا۔جی ہاں! جب بھی کوئی شہید ہوتا امام حسین علیہ السلام اس کے سرہانے پہنچ جاتے اور اس کے پاک و طاہر جسم کو آغوش میں لیتے ۔ مگر ہمارے دل جل جائیں اور ہماری آنکھیں اشکوں کے دریا بہائیں لعل فاطمہ (س) کے لئے جو بے کس و تنہا گودال قتلگاہ میں اترے اور دشمن بے ضمیر کے زانو تھے اور آپ کا سینہ ...
أَلا لَعنَةُ اللهِ عَلَی القَومِ الظّالمِینَ وَسَيَعْلَمُ الَّذِ